Header Ads Widget

ماں اللہ کا انمول تحفہ

 ماں اللہ کا انمول تحفہ




از قلم : حافظ محمد عمران نیپالی 

متعلم : دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ یوپی الہند 


پیارے قارئینِ عظام:

       اللّٰہ رب العالمین نے ہم انسانوں کو انگنت اور لازوال نعمتوں سے مالا مال کیا ۔ انتہائی خوبصورت انداز میں ہم انسانوں کی تخلیق فرمائی۔ ملائکہ (فرشتہ) جیسی عظیم ترین جماعت سے ہم انسانوں کو سجدہ کا حکم دے کر ہماری عزت و تکریم میں چارچاند لگادیا،  چاند و سورج، ستاروں اور سیاروں سے آراستہ کرکے آسمان کو ہم انسانوں کے لیے خوبصورت چھت بنا دیا، زمین کو طرح طرح کے پھلوں پھولوں اور مختلف اجناسوں کے سرسبز و شاداب کھیتیوں سے مزین فرماکر اسے بچھونا بنا دیا۔ اور سب سے بڑی نعمت یہ کہ دین اسلام سے نوازا، اور سید المرسلین حبیبِ خدا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نبی  کا امتی ہونے کا شرف بخشا۔ قرآن جیسی ابدی سرمدی آسمانی کتابِ عظیم  سے نواز کر ہمیں رحمت و تسکین کی دولت بھی عطا کر دی، اور اس مقدس کتابِ حکیم کو ہماری روحانی و جسمانی بیماریوں کے لیے نہ صرف شفا قراردیا، بلکہ اس کے پڑھنے والے کو علوم و معارف کے خزانوں سے مالا مال کیا۔ اور دنیا و آخرت کی ابدی کامیابی اسی مقدس کتابِ عظیم میں رکھی۔ الغرض اللّٰہ کے ان انعامات واحسانات کا ہم میں سے کوئی بھی انسان کے اندر نہ تو قرض ادا کرنےکی ہمت ہے، اور نہ ہی ہم انسان ان ساری نعمتوں کو شمار کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اللّٰه کا خوب خوب شکر ادا کریں، ہم انسان اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں بہت ہی کم ہے۔  اللّٰہ رب العالمین نے قرآنِ مجيد میں ارشاد فرمایا ہے کہ : (وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا ؕ ) ﴿سورۂ ابراھیم آیت نمبر ''٣٤''﴾ ”اور اگر تم ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم ہرگز شمار نہیں کر سکتے“۔

یہ بھی پڑھیں: ہر لفظ ترا دل میں چبھن چھوڑ رہا ہے

قارئینِ کرام:

   ان سارے انعامات میں سے ایک بیش بہا نعمت یہ بھی  ہے کہ انسان کے لیے اس کائنات میں تنہا زندگی گزارنا بڑا مشکل ہوتا، اگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے خوبصورت رشتے نہ بناتے، کبھی مشفق اور کریم والدین کی صورت میں تو کبھی غمگسار بیوی اور شوہر کے روپ میں اور کبھی بہن اور بھائیوں کے مضبوط اور پیار بھرے حصار کی شکل میں، تو کبھی بڑھاپے کی دہلیز پر فرمانبردار اولاد کے روپ میں، پیدائش سے لے کر موت تک انسان ان رشتوں کی لڑی میں ہار کی طرح پرویا رہتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم اور اپنے بندوں سے شفقت کا واضح  ثبوت ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ہر رشتہ اپنی جگہ ایک خاص اہمیت اور قدر و قیمت کا حامل ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں کا عکاس بھی، اور اللہ تعالیٰ نے ان رشتوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ جو تجھے توڑے گا میں بھی اسے توڑ دوں گا، اور جو تجھے جوڑے گا میں بھی اسے جوڑوں گا۔ ان خوبصورت رشتوں کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اور ان کو نبھانے کے حوالے سے اللہ کا یہی فرمان کافی ہے۔ لیکن ان رشتوں میں بھی والدین کا رشتہ سب سے قربت والا اور رحم و کرم والا ہے۔ اور اس عظیم المرتبت رشتے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دعا بھی قرآن مجید میں نازل کی اور ایمان والوں کو سکھائی کہ وہ الله تعالیٰ سے ان الفاظ میں اپنے والدین کے لیے التجا اور دعاء کیا کریں۔ قرآن پاک میں اللّٰہ رب العالمین نے فرمایا ہے :- “ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا”  (سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر{٢٤})  ”اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں مجھے پالا پوسا“

  پھر ماں اور باپ میں سے بھی ایک ہستی ایسی ہے جو کہ الله کا انمول تحفہ ہے۔ اور یہ وہ عظیم رشتہ ہے جو ہمارے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اس بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہا: ( اے اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہاری ماں!صحابی نے کہا: ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہاری ماں! اس نے پھر کہا: ان کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہاری ماں! اس نے کہا: ان کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہارے والد)۔ بخاری: (5626) ،مسلم: (2548)

اسی حدیث مبارکہ سے ہمیں واقفیت ہوئی کہ ماں کتنی عظیم الشان ہستی ہے۔ 

یہ بھی یاد رکھیے کہ  دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی  بہت بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے بچوں کو اپنا دودھ پلا پلا کر پالا پوسا، اُن کی پرورش میں اپنی ہر راحت قربان کی، اپنا ہر آرام ترک کیا، اور اپنی ہر خواہش بچوں کے لیے نثار کردی۔ کسی بڑے شاعر نے ماں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ یوں کہا کہ

 

  میری ماں کا چہرہ بھی اتنا حسین ہے تسبیح کے دانوں کی طرح

 میں پیار سے دیکھتا گیا اور عبادت ہوتی گئی

پیارے بھائیو اور بہنو:

    ”ماں“ وہ عظیم نام اور وہ عظیم ہستی ہے ، جس کے لئے دُنیا کی مختلف زبانوں اور عالمی تہذیبی ورثے اور زبان و ادب میں جو الفاظ تخلیق کئے گئے ، وہ اس کے بلند مقام کا استعارہ اور ماں سے عقیدت و محبت کا حسین اظہار ہیں جبکہ دینِ فطرت اور دین ِ رحمت نے ”ماں“ کی عظمت، خدمت اور اس کی اطاعت و فرمانبرادی کا جو درس دیا ہے وہ سب سے منفرد اور بے مثال ہے، ماں کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایہ ہے،  اس کی شفقت و محبت اور خلوص و وفا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ 

  عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ»

تخریج: مسند الشهاب القضاعي ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 1/102 (رقم الحدیث: 119)

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ اللّٰه کے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا "جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے” اس حدیث  کے مطابق قدموں تلے جنت کا اعزاز رکھنے والی ہستی کا تذکرہ شاعر نے بڑی خوبصورتی سے یوں کیا ہے کہ


رسول اللہ نے ماں کے پیار کی ایسی مثال دی ہے

جنت اٹھا کر ماں کے قدموں میں ڈال دی ہے

ماں کی عظمت اور وقار صرف یہی نہیں کہ وہ اپنی اولاد کی جنت کا ضامن ہے بلکہ کائنات میں انسان کے رشتوں میں اگر کوئی لازوال و بے لوث  رشتہ ہے تو صرف ماں کا ہے۔ دنیا کی ہر محبت اور تعلق میں کہیں نہ کہیں خود غرضی آجاتی ہے اور کہیں نہ کہیں اغراض محبتوں پر غالب آ جاتے ہیں، اگر کوئی بے لوث محبت کا رشتہ ہے تو وہ صرف ماں کا ہے، جو ذاتی مفاد اور خواہشات سے بالاتر ہو کر محبتوں کے پھول اپنی اولاد پر نچھاور کرتی ہے۔ ماں محبتوں کی انمول داستان اور قدرت کی طرف سے ودیعت کیے گئے قیمتی رشتوں میں سے بیش قیمت تحفہ ہے۔

 پیار کی یہ نایاب کہانی انسان کے وجود میں آنے سے پہلے شروع ہو کر زندگی کے آخری دم تک جاری و ساری رہتی ہے، اس سے بڑھ کر پیار و محبت کا خزینہ کہاں سے ملے گا؟ اپنی ذات کو بھول کر، اپنے آرام کو تج کرکے اور اپنی تکالیف کو فراموش کرکے محبت کی شاہراہ پر چلتے ہی جانا، اور اپنی اولاد کے دکھوں اور تکالیف کو اپنے دامنِ محبت میں سمیٹتے ہی چلے جانا، یہ ایک ماں کا شیوہ ہے۔ 

 تابش نے کیا ہی خوب کہا ہے


               اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش

              میں نے اک بار کہا تھا ماں مجھے ڈر لگتا ہے

 

قارئینِ کرام:

         ماں  کے  قدموں  میں  ہے  جنت 

          ماں کے قدموں کو  ہے میرا سلام

  ماں اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ ، عقل و شعور کی پہلی درسگاہ ، خلوص کا سرچشمہ، اصل محبت  کا عکس اور ایسا باغ ہے جہاں ہر وقت اولاد کے لئے پھولوں کی پتیوں کی طرح نرمی ہی نرمی ہے، مختصر یہ کہ ماں جنت کا وہ پھول ہے جس کے بغیر زندگی بے معنی ہے، ماں کی قدر و قیمت اُن لوگوں سے پوچھیں جن کی مائیں بچپن میں اس دار فانی سے کوچ کرگئی ہیں۔ ماں کے بغیر انسان اُس شاخ کی مانند ہے جو زمانے کی تیز ہواؤں اور دھوپ کی تپش کے بغیر کسی سائبان کا سامنا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللّٰه ہماری ماؤں کو صحت و تندرستی اور خوشحال زندگی دے  اور ان  کا سایہ ہم پر تا حیات سلامت رکھے آمین۔ یہ بھی اللّٰه سے  دعا گو ہوں کہ تمام ماؤں کا سایہ اولادپر قائم و دائم رکھے۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دُعا ہے کہ ہم اولاد کو بھی ربّ کائنات اپنی اپنی ماؤں کی عزت و تکریم اور خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے کہ اِس خدمت کے وسیلے سے وہ حجِّ اکبر کی سعادت حاصل کرنے کے اہل ٹھہریں، بیشک! میری تمام تر کامیابیاں میری والدہ محترمہ کی تربیت اور اُن کی دُعاؤں اور شفقتِ پدری کی مرہون منت ہے۔ آخر میں میری دُعا ہے کہ اللّٰه پاک اس دنیا سے کوچ کر جانے والی تمام ماؤں کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔ 

اس شعر کے ساتھ اپنا قلم بند کرتا ہوں کہ 

           ساری زندگی ماں کے نام کرتا ہوں

          میں خود کو ماں کا غلام کرتا ہوں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے