Header Ads Widget

علماء دیوبند اور قرآنی خدمات

 علماءِ دیوبند اور قرآنی خدمات


علماء دیوبند اور قرآنی خدمات


از قلم: محمد علقمہ صفدر ہزاری باغ

ہندوستانی مسلمانوں پر ایک عہد ایسا بھی گزرا ہے کہ جس میں وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتابِ مجید سے عملی اور ذہنی ہر سطح سے اس قدر دور ہو چکے تھے کہ عوام تو عوام خواص امت تک کا نظریہ اور خیال قرآن پاک کے متعلق یہ ہو گیا تھا کہ یہ ایک نہایت مغلق و پیچیدہ اور مشکل ترین کتاب ہے، جس سے استفادہ بھی کوئی آسان کام نہیں ہے، بر ایں بنا کتاب و سنت سے دوری اور جاہلانہ رسوم و معتقدات، صوفیانہ بدعت و خرافات کو ہی دین کا حصہ سمجھا جا رہا تھا، بلکہ انتہا یہ تھی کہ عملاً دین کو انہیں چند رسوم و رواج پر منحصر کر رکھا تھا، ایسے عہد ظلمت و آشوب میں قرآن و سنت کی دعوت کے سب سے نمایاں علمبردار مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو کتاب الہیٰ سے وابستہ کرنے کے لیے اپنی کدو کاوش اور جہدو جستجو کو روحانی پیرائے میں شروع کیا، اور قرآنی دعوت کے نشر و تبلیغ کا بیڑہ اٹھایا، آپ اس حقیقت و واقعیت سے بخوبی واقف تھے کی جس طرح اسلام اپنے عہدِ ابتدا میں نکبت و پسماندگی کا شکار جبکہ کفر و شرک سر پر چڑھ کر بول رہا تھا، اور ہر سمت و ہر جہت اسی کا غلبہ و غلغلہ تھا، ایسے عہد میں اللہ رب العزت نے جس طریقے پر دعوتِ توحید دینے کا حکم دیا وہی طریقۂ الہیٰ مستقبل کے ہندوستان میں بھی دعوتِ دین اور حفاظتِ دین کے لیے کارگر ہو سکتا ہے، جس کے لیے قرآنی حکمت و موعظت کا احیا ناگزیر ہے، اسی صورتحال کے پیشِ نظر آپ نے جہاں اس وقت کی زبان یعنی فارسی میں قرآن پاک کا ترجمہ کیا، وہیں پر آپ نے اپنے فرزندانِ ارجمند کو بھی اسی خدمات کے لیے تیار کیا، چنانچہ اب یہاں سے سرزمین ہندوستان میں دعوتِ قرآنی کا ایک نیا سلسلہ پورے آب و تاب اور ذوق و شوق سے شروع ہوتا ہے، اور خانوادۂ ولی اللہ کے فرزندان شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر دہلوی نے سب سے پہلے اردو زبان میں ایک معیاری اور الہامی ترجمہ قرآن بنام ” موضح قران “ کے تصنیف فرمایا، موضح قران کے گوناگوں خصوصیات ہیں جس کی بنا پر یہ ترجمہ قرآن آئیندہ میں اردو زبان کے لیے بنیادی، معیاری اور مستند ترجمۂ قرآن قرار پایا۔


علماءِ دیوبند کی قرآنی سرگرمیاں

 بعد ازاں اسی ولی اللہی فکر اور تحریک کے امین و پاسبان علماءِ دیوبند کے سرخیل، کاروان دیوبند کے روح رواں شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی علیہ الرحمہ جب تقریباً چار سال زندان مالٹا سے واپس تشریف لائے تو چونکہ ولی اللہی فکر اور ذوق طبیعت میں پیوستہ تھی، آپ نے مالٹا سے آتے ہی دوبارہ اسی تحریک اور فکر کو از سرِ نو اپنی عملی سرگرمیوں کا تمام تر حصہ بنا لیا، اور آپ نے یہ خواہش اپنے عزیز طلبہ کے سامنے ظاہر کی کہ تعلیم قرآن کے مکاتب کا قیام گاؤں گاؤں اور محلے محلے میں ہونا چاہیے، اس سلسلے میں سب سے پہلے آپ ہی نے پیش رفتی اور اقدام فرمایا، اور اسی خانوادہ ولی اللہ کے فرزند کا ترجمہ قرآن کو از سرِ نو تسہیل اور عوامی زبان میں بنام ” موضح فرقان “ ترجمہ کیا، جو بعد میں ترجمۂ شیخ الہند کے نام سے مشہور ہوا، پھر آپ ہی کے ایک ممتاز شاگرد مولانا شبیر احمد عثمانی علیہ الرحمہ نے آپ کی تسہیلی ترجمے پر تفسیری حواشی (چار پاروں کے علاوہ) تحریر کیے، ان حواشی میں شاہ صاحب کی تفسیری فوائد کی وضاحت کی، اور حواشی کی گنجائش کے مطابق قرآن پاک کی ایک نئی اور بنیادی تفسیر لکھی، شیخ الہند علیہ الرحمہ کے سینکڑوں اجلۂ تلامذہ اور جلیل القدر شاگردوں کی پوری ایک جماعت تھی ان میں سے ہر ایک درخشاں آفتاب و ماہتاب، اپنی مثال آپ تھے، اور اپنی ذات میں ہر ایک علم و فن کا انجمن اور عظیم لائبریری تھے، شیخ الہند علیہ الرحمہ نے اپنے ان تمام اجلۂ تلامذہ کے ذہن و قلوب میں فکر قرآنی اور دعوت قرآنی کی گویا ایک صور پھونک دی جو نفخ اسرافیل سے کم نہ تھی، شیخ الہند کے یہی جلیل القدر شاگرد بر صغیر کے چپے چپے میں پھیل گئے، اور فکرِ قرآن کا وہ خاکہ جو مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے تیار کیا تھا اس میں رنگ کاری کے لیے کاروان شیخ الہند نے مختلف جہات میں مختلف محاذوں پر خدمت قرآنی کا فریضہ انجام دیا، قرآن اور علوم قرآن پر جو بیش بہا اور مفیدآور تصنیفات و تالیفات فراہم کیے اس کا دائرہ اتنا وسیع و عریض ہے کہ بر صغیر کی تاریخ میں یا بین الاقوامی سطح پر کسی بھی تنظیم و تحریک کی جانب سے اس کا مقابلہ تو کجا اس کا عشر عشیر بھی نہیں کی جا سکتی۔( علماءِ دیوبند کی علمی و تصنیفی خدمات)

                         پروفیسر ڈاکٹر یوسف صلاح الدین کی تحقیق کے مطابق 1990 تک تقریباً 196 علماءِ دیوبند نے قرآن پاک کو اپنا موضوع بحث بنایا، اور 21 زبانوں میں قرآن پاک کی خدمات انجام دیں، مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے 84 تراجم مکمل اور تقریباً 100 نامکمل تفسیریں لکھی گئیں........ علماءِ دیوبند نے علوم القرآن کے حوالے سے 34 موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں، جس میں 20 احکام القران پر، 33 اصول تفسیر و تراجم پر، 6 اعجاز القرآن پر، 4  فصاحت و بلاغت پر، 3 ارض القرآن پر، 8 فضائل قرآن پر، 5 فلسفۂ قرآن پر، 6 قرآن و تصوف کے حوالے سے، 29 لغات القرآن پر، 6 قرآنی مواعظ پر، 2 ناسخ و منسوخ پر، 5 قرآنی گرامر پر، 5 وحی الہٰی پر،  15 تاریخِ قران پر، 7ربطِ قرآن پر، 11 تاریخ مترجمین و مفسرین پر، 120 تجوید و قرات پر، 15 اسبابِ نزول پر، 14 قرآنی ادعیہ پر، 7 اسماءِ حسنیٰ پر، 19 گمراہ فرقوں کی تفسیری آرا کے رد میں، 5 قرآنی انڈیکس پر، 5 قرآنی فلسفے پر، اور تقریباً سو سے زائد کتابیں علماء دیوبند نے متفرق قرآنی موضوعات پر لکھیں ہیں۔( دارالعلوم دیوبند کی جامع اور مختصر تاریخ)


 غور تو کیجیے یہ اعداد و شمار اور رپورٹ آج سے تقریباً 35 سال پہلے کی ہے، 1990 سے تادم تحریر اس طویل عرصے میں سینکڑوں مفسرین و مصنفین پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے قلمی جولانی کا موضوع قرآن پاک کو بنایا، اب اگر دوبارہ اس پر تحقیق کی جائے تو یقیناً ان اعداد میں مزید اضافہ ہو جایگا۔

 ان تمام علماء دیوبند نے مختلف رجحان و مناہج کے ذریعے خدمت قرآن مجید کی سعادت حاصل کی، اور قرآنی موضوعات کے نت نئے نئے گوش بر آمد کیے، نادر نکتوں سے پردہ اٹھایا اور ایک زندۂ و جاوید کتاب کی حیثیت سے اس کتابِ مجید سے استفادہ کی راہیں کھولیں۔


ہمہ جہت قرآنی خدمات

       حضرت الاستاذ مولانا سلمان بجنوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں کہ”اسی کے ساتھ فضلاءِ دیوبند کی تفسیری و قرآنی خدمات میں، مساجد میں ترجمہ و تفسیر کے بیان کا وہ سلسلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جسے فضلاءِ دیوبند نے ہر جگہ اور ہر دور میں جاری کیا ہے، اور اس طرح امت کے ایک بڑے طبقے کو قرآن اور معانیِ قرآن سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کیا ہے“ ( دار العلوم دیوبند خدمات حالات منصوبے ص۱۱)

         ڈاکٹر و مفتی محمد مشتاق تجاوری (پروفیسر جامعہ اسلامیہ نئی دہلی) رقم طراز ہیں ” فضلاء دارالعلوم کی خدمات اتنی گراں قدر اور اتنی متنوع ہے کہ ان سب کا احاطہ بھی نہیں کیا جا سکتا، ان کی سب سے بڑی خدمت تو تدریس قرآن کی ہے، فضلاءِ دارالعلوم نے نہ صرف ملک کے طول و عرض میں بلکہ پوری دنیا میں قرآن مجید کی تدریس لفظاً و معناً جس طرح کی ہے اس کا احاطہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ ہزاروں مدارس میں ہزاروں اساتذہ ڈیڑھ صدی سے اس میں مصروف ہیں اس لیے تدریس قرآن کے لیے فضلاء دارالعلوم کی خدمات کا تذکرہ اور احاطہ ہو ہی نہیں سکتا، فضلاء دارالعلوم کی قرآنی خدمات کا دوسرا پہلو درس قرآن یا تفسیر قرآن کے حلقوں کا قیام ہے، یقین کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن اس میں بھی جتنا غور کریں گے انداز ہوگا کہ 

سراپا میں جس جا نظر کیجیے     وہیں عمر اپنی بسر کیجیے

مساجد میں، ذاتی حلقوں میں، ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی وغیرہ پر درس قرآن کے اتنے حلقے فضلاءِ دیوبند نے قائم کیے کہ ان کو احاطۂ شمار میں نہیں لایا جا سکتا، شہر شہر، قریہ قریہ ایسے درس قرآن یا تفسیر کے حلقے قائم کیے ہیں، مساجد کے علاوہ بعض علماء نے اپنے گھروں میں اور بہت سے ذمہ دار حضرات نے بھی اپنے اپنے گھروں میں یہ حلقے قائم کیے ہیں، بہت سے فضلا نے زندگی بھر قرآن پاک کے حلقۂ درس قائم رکھا، بہت سے فضلا نے بیک وقت کئی کئی حلقے قائم کیے، مساجد میں الگ، عصری درسگاہوں میں الگ، عوام کے لیے الگ اور خواص کے لیے الگ اور ان حلقوں میں بہت سی نئی تفسیریں وجود میں آ گئیں۔

بعض فضلا ایسے بھی ہیں جن کی تفسیر صرف ریکارڈ ہوئی ہے اور ابھی صرف سمعی و صوتی ریکارڈنگ میں ہی دستیاب ہے کتابی شکل میں شائع نہیں ہوئی، مثلاً امریکہ میں مولانا عبداللہ سلیم شکاگو کی تفسیر۔

 فضلاءِ دیوبند کی تفسیری خدمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا یا تفسیر لکھی یا کسی عربی و فارسی تفسیر کا ترجمہ کیا یا کسی قدیم تفسیر کی شرح لکھی یا مجموعی طور پر قرآنیات اور قرآنی علوم پر کوئی کتاب لکھی، یہ میدان بھی بہت وسیع ہے۔

فضلاءِ دیوبند کی تفسیر خدمات کا ایک پہلو وہ ہے جو مختلف رسالوں میں درسِ قرآن یا تذکیر بالقرآن کے انداز کا ہے اس کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔


فن قرأت و تجوید

               علومِ قرآن کا ایک بنیادی فن تجوید و قرأت کا فن ہے، جو اپنے آپ میں بھی ایک عظیم دنیا ہے، یقیناً یہ بات باعث حیرت انگیزی ہے کہ علماءِ دیوبند میں سے صرف ایک شخصیت نے فن تجوید و قرأت میں سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، اور الحمدللہ فی الحال قلم جاری و ساری ہے، اور وہ عظیم شخصیت حضرت مولانا قاری ابو الحسن اعظمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہیں، جو اس فن میں یقیناً امام اور مجدد کی حیثیت رکھتے ہیں اور اہل علم نے اس فن میں ان کے تجدیدی کارناموں کو بجا طور پر سراہا اور تسلیم کیے ہیں، آپ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہو کر دار العلوم میں ہی ایک زمانے تک شعبہ تجوید کے صدر بھی رہے ہیں، الحمدللہ ابھی بھی باحیات ہیں اور ان کا علمی سفر ابھی بھی رواں دواں ہیں، پوری اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی شخصیت نہیں گزری جس نے صرف اس فن میں اس قدر کتابیں لکھی ہوں، یہ صرف اور صرف حضرت قاری ابو الحسن اعظمی صاحب ہی کی خصوصیت اور ان کے لیے عظیم عطیہ الہی ہے۔

قاری ابو الحسن اعظمی صاحب کی چند تصانیف یہ ہیں۔

(۱) علم قرأت اور قراے سبعہ (۲) النفحۃ العنبریہ شرح المقدمۃ الجزریۃ،  (۳) النفحات القاسمیہ شرح متن الشاطبیہ   (٤) التبشیر شرح التیسیر    (۵) قواعد التجوید   (٦)  تیسیر القرآت فی السبع المتواترات   (٧) قرآنی املا اور رسم الخط   (۸) رسم المصحف اور اس کے مصادر   (۹) کاتبین وحی  (۱۰) دربارِ رسالت کے نو قراء   (۱۱)  دار العلوم دیوبند اور خدمات تجوید و قرأت، وغیرہ۔

            اسی طرح حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے بھی فن تجوید میں متعدد شاہکار درسی و غیر درسی کتابیں تصنیف کیں، حضرت مولانا قاری جمشید صاحب استاذ تجوید دار العلوم دیوبند نے بھی اس فن میں قابلِ قدر کتابیں لکھیں، اور بھی بے شمار ماہرین تجوید ہیں جنہوں نے قرآنی علوم کے اس ذیلی شعبے میں کارنامہ انجام دیے ہیں۔


چند مشاہیر مفسرین کرام

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مفتی شفیع عثمانی دیوبندی، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، شیخ الاسلام مولانا ثنا اللہ امرستری صاحب، مولانا انیس احمد آزاد بلگرامی، مولانا اخلاق حسین قاسمی، مفتی سعید احمد پالن پوری، فقیہ الامت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، بحر العلوم مولانا نعمت اللہ اعظمی، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی، مولانا نسیم احمد بارہ بنکوی، مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی، میر واعظ مولانا محمد یوسف، مولانا محمد غلام مصطفی قاسمی، مولانا محمد عمران قاسمی، مولانا عبید اللہ سندھی، مفتی ظفیر الدین مفتاحی، قائد ملت حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب، حضرت مولانا زبیر احمد صدیقی، مولانا الیاس گھمن۔


چند معروف و مستند تفاسیر

بیان القرآن: یہ تفسیر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کی تصانیف میں ایک شاہکار اور اردو تفاسیر میں مایۂ ناز تفسیر ہے، یہ تفسیر با وجود اختصار کے گو نا گوں خصوصیات و امتیازات کا حامل ہے، اسلوب و زبان قدرے دقیق اور عالمانہ ہے، فصاحت و سلاست کے جا بہ جا نمونے بکھرے ہیں، اقوال مفسرین سے اعراض کرتے ہوئے محض راجح قول لیا گیا ہے، ہر سورت و آیت میں ما قبل و ما بعد کے ما بین ربط کو واضح کیا گیا ہے، تفسیری روایات کے لانے میں صحت کا بخوبی خیال رکھا گیا ہے، اطناب سے قطع نظر جامعیت کے ساتھ نا گزیر توضیح و تفصیل پر اکتفا کیا گیا ہے، مسائل فقہیہ اور کلامیہ کی ہر آیت کے متعلق اسی قدر تحقیق پر اکتفا کیا گیا ہے جس پر قرآن پاک کی تفہیم موقوف تھی، ہر جگہ تفسیر میں اتباع سلف کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، ساتھ ساتھ ایسے شبہات کا بھی ازالہ کیا گیا ہے جو کسی مسلمہ یا امر صحیح پر مبنی ہو، اس تفسیر کے ساتھ حضرت تھانوی صاحب کی تین تصنیف بھی شامل حال ہے۱۔ رسائل السلوک من کلام ملوک الملوک  ٢ رفع الشکوک فی ترجمۃ مسائل السلوک  ۳ وجوہ المثانی مع توجیہات الکلمات و المعانی۔



معارف القرآن:  یہ تفسیر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کی ہے، جو آٹھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، یہ اردو کے چند معتبر، مقبول و متداول تفسیروں میں سے ایک ہے، مفتی شفیع صاحب عثمانی نے اپنی اس تفسیر میں بطور ترجمہ کے ترجمۂ شیخ الہند کو شامل کیا ہے، پھر ”خلاصۂ تفسیر“ کے عنوان سے حضرت تھانوی صاحب کے بیان القرآن کی تفسیر پیش کیے ہیں جو ترجمہ کے ساتھ ساتھ تفسیر پر بھی مشتمل ہے اور امتیاز کے واسطے ترجمے پر خط کشید کیے ہیں، پھر حضرت نے اپنا اصل کارنامہ ”معارف و مسائل“ کے عنوان سے قرآنی آیات کی تشریح و توضیح کرتے ہیں، ضرورت کے وقت لغوی و صرفی تحقیق بھی فرماتے ہیں، مسائلِ فقہیہ کو بطور خاص بیان کرتے ہیں اور گاہے بگاہے معترضین کے شکوک و شبہات کا بھی ازالہ فرماتے ہیں۔



معارف القرآن (ادریسی): یہ تفسیر حضرت مولانا ادریس کاندھلوی شیخ التفسیر دارالعلوم دیوبند کی 34 سالہ کد و کاوش کا نتیجہ ہے، یہ بھی آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے، مولانا ادریس کاندھلوی نے حضرت شاہ عبد القادر کے ترجمۂ قرآن ”موضح القرآن “ کو اپنی تفسیر کی بنیاد قرار دیے ہیں، اور اسی ترجمہ کو شامل کیے ہیں، گویا کہ معارف القرآن موضح القرآن کی تفسیرِ مزید ہے، اس میں تفسیری احادیث و روایات سے بھی بھر پور استفادہ کیا گیا ہے، اس کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں کلامی مسائل اور جدید دور کے اعتراض و اشکالات کی تردید پر زیادہ توجہ کی گئی ہے، یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مولانا ادریس کاندھلوی اپنی اس تفسیر کو ”سورۂ صف “ تک ہی لکھ پاے تھے کہ بارگاہِ الٰہی کی طرف کوچ کر گیے، بعد ازاں آپ کے فرزند ارجمند مولانا عبد المالک کاندھلوی نے اس کی تکمیل فرمائی، جو کہ اب مکمل آٹھ جلدوں میں دستیاب ہے۔


ترجمۂ شیخ الہند: یہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ پاک ہے، لکھنے کا آغاز 1909 سے فرمایا 1912 تک تقریباً تین سال میں دس پاروں کا ترجمہ کیا، لیکن سیاسی اور مدرسی ہنگاموں نے اس سلسلہ کو روک دیا، پھر 1915ء میں حجاز تشریف لے گئے، وہاں سے گرفتاری کے بعد زندانِ مالٹا میں ترجمہ کے کام کو دوبارہ شروع کیا، تا آں کہ ترجمہ مکمل گیا، حتیٰ کہ سورۂ نساء تک کی تفسیری حواشی بھی لکھ دیے، کہ ناگہاں قضاے الہیٰ کے سبب شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ راہیِ اجل ہو گیے، بعد ازاں آپ کے ایک نہایت قابل شاگرد علامہ شبیر احمد عثمانی نے ترجمہ کے تکمیل کی سعادت حاصل کی، ترجمہ شیخ الہند نہایت مقبول و معروف ہے، کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہو چکے ہیں، اس کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ حجاز شریف سے سال ہا سال چھپتی رہی، اور حجاج و زائرین میں تقسیم ہوتی رہی ہے۔



ہدایت القرآن:  یہ حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوریؒ کی تفسیر ہے، پارۂ ٣٠ اور بارۂ ١  تا ۹ مولانا عثمان کاشف الہاشمی کی لکھی ہوئی تھی، مفتی سعید احمد صاحب نے دسویں پارہ سے لیکر آخری بارے تک تفسیر لکھی، بعدِ تکمیل ان ۹ پاروں کی بھی تفسیر لکھ دی جن کو مولانا عثمان صاحب نے لکھی تھی، اس طرح سے اب مفتی سعید صاحب ہی کی تفسیر مکمل آٹھ جلدوں میں  مکتبۂ حجاز سے شائع ہوئی، اور مولانا کاشف الہاشمی صاحب کی تفسیر علاحدہ شائع ہوئی، ہدایت القرآن کسی خاص اسلوب میں پوری طرح نہیں اترتی ہے بلکہ اسلوب کی تنوع ہر جگہ نمایاں ہیں، بالخصوص جو پارے آخر میں لکھے گئے ہیں اس کا اسلوب اور مواد زیادہ منظم ہے، مثلاً پہلے پارے کی تفسیر سب سے آخر میں لکھی گئی ہے اس میں طریقۂ تفسیر اس طرح ہے کہ پہلے سورت کا تعارف پھر نمبر شمار، نزول ترتیب، مکی و مدنی، ماقبل سے ربط، سورت کی اہمیت، اسماے سورت پر بحث اور فضائل، پھر سورت کی تفسیر کا آغاز کرتے ہیں۔

درس قرآن:  یہ حضرت مولانا ظفیر الدین مفتاحی صاحب صدر مفتی دار العلوم دیوبند کی تفسیر ہے، یہ معروف معنوں میں درس قرآن نہیں ہے جیسا کہ نام سے مترشح ہوتا ہے، بلکہ یہ باضابطہ مفتی صاحب کی تصنیف ہے جو اولاً ماہانہ مجلوں کی طرح ہر ماہ شائع ہوتی رہی، اس طرح یہ تفسیر کل تیس حصوں میں شائع ہوئی، بعد میں یہ مکمل تفسیر ٦ جلدوں میں شائع ہوئی اور کافی مقبول بھی ہوئی، اس کی ترتیب اس طرح رکھی گئی ہے کہ آیات قرآنی کے تحت عنوان اوپر، پھر نیچے ہر لفظ کے معانی جدا جدا لکھے گیے ہیں، پھر حضرت تھانوی صاحب کا با محاورہ ترجمۂ قرآن شامل کیا گیا ہے، پھر آیات قرآنی کی تفسیر شروع ہوتی ہے، انداز و اسلوب عام فہم، سادہ و سلیس، کم کم جملوں میں زیادہ تفسیر لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، اختلافی مباحث سے قطع نظر کیا گیا ہے، پھر آخر میں آیتوں کا خلاصۂ پیش کیا گیا ہے۔

ان تمام کے علاوہ بھی کئی گراں قدر تفسیریں علماءِ دیوبند کے قلم سے منصۂ شہود پر آئی ہیں، مگر طولِ بیانی کے خوف سے قلم کو یہیں روکتا ہوں۔


یہ بھی پڑھیں: علماء دیوبند عربوں کی نظر میں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے