Header Ads Widget

روح کی حقیقت کیا ہے، اور جسم سے کیسے نکلتی ہے؟



روح تعالی کا ایک امر ہے۔

حق تعالی نے اپنے دست قدرت سے بے شمار مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، ان تمام مخلوقات میں تخلیقی لحاظ سے  انسان کو سب سے اعلی،ارفع اور اکمل بنایا اور اسے تمام مخلوقات پر فوقیت و برتری عطا کی اور اسے بے شمار چیزوں کا علم عطا فرمایا؛ لیکن اللہ تعالی نے بہت سے علوم کو انسانوں سے مخفی رکھا ہے، ان چیزوں میں سے ایک عجیب و غریب شیئ روح ہے، کوئی بھی انسان حتمی اور یقینی طور پر روح کے مکان کی تعیین نہیں کر سکتا ہے، اور نہ ہی وہ اس کی حقیقت سے واقف ہے اور نہ ہی وہ اس کے جسم سے خروج کی کیفیت کو جانتا ہے۔

روح قدرت کی ان رازہائے سربستہ میں سے ہے جن کی حقیقت سے آشنائی حضرت انسان کی بساط سے باہر ہے۔

روح کی حقیقت کو فقط وہی جانتے ہیں جن پر اللہ تعالی نے اس کی حقیقت واضح کر دی ہے، یعنی سوائے انبیا علیہم السلام کے کوئی بھی فرد بشر روح کی حقیقت سے کامل طور پر واقف نہیں ہے۔


اس تحریر میں نصوص قرآنیہ و حدیثیہ کی روشنی میں روح کا معنی و مطلب اور موت کے وقت اس کے نکلنے کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے؛ لہذا تحریر مکمل ضرور پڑھیں!


روح کی حقیقت کیا ہے؟

”روح“ عربی زبان کا لفظ ہے اس کی جمع ”ارواح اور رؤوح آتی ہے، روح ایسی شیئ ہے جس پر حیات کا مدار ہے۔

اصطلاحا روح حق تعالی کی ایسی لطیف مخلوق ہے جس کے ساتھ مخلوق کی زندگی قائم ہوتی ہے، اور اس پر حیات کا مدار ہوتا ہے، صاحب نہایہ نے اسے نسیم روح کہا ہے، یعنی روح اللہ تعالی کا ایک امر ہے جسے اللہ پاک مخلوق میں جاری فرماتے ہیں تو مخلوق میں جان آ جاتی ہے۔

بعض لوگ مجازا قرآن کریم کو بھی روح کہتے ہیں؛کیوں کہ جس طرح حقیقی روح سے انسانی جسم میں جان آتی ہے اسی طرح آیات قرآنیہ کی وجہ سے مردہ قلوب میں زندگی پیدا ہوتی ہے۔

روح اللہ تعالی کی کوئی صفت نہیں؛بلکہ اللہ کی ایک مخلوق ہے۔


روح کے نکلنے کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟

بےشک روح اس قدر لطیف شیئ ہے کہ اس کی حقیقت کا ادراک صحیح طور پر کسی کو نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے روح کے نکلنے کی کیفیت بھی انسانوں سے مخفی ہے؛البتہ روح کے نکلنے کی کچھ علامتیں اور اور نشانیاں ہیں،

حدیث پاک میں مومن و صالح اور کافر و فاجر کی موت کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔

چناں چہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جب کسی مومن بندے کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو ملک الموت اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے پاکیزہ روح! اپنے رب کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف چل، پھر وہ روح بڑے آرام اور سکون کے ساتھ نکل جاتی ہے جیسے مشکیزہ سے پانی کا قطرہ بہہ کر نکلتا ہے، اور اس سے بہترین خوشبو نکلتی ہے۔

اور جب کسی فاسق و فاجر یا کافر شخص کا دنیا سے جدا ہونے اور آخرت کی جانب کوچ کرنے کا وقت آتا ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آتے ہیں اور حد نظر کی مسافت پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت آتا ہے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے، اے خبیث روح! اپنے رب کی ناراضگی اور غضب کی اور چل، پھر وہ روح اس کے پورے جسم میں پھیل جاتی ہے اور فرشتے اس کی روح اس قدر سختی سے نکالتے ہیں جیسے لوہے کی سیخ کو بھیگی اون سے نکالا جاتا ہے، اور اس روح سے مردہ لاش کی طرح بدبو آتی ہے۔


Rooh ki haqiqat kiya hai


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے