Header Ads Widget

کیا مرا ہوا انسان دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟

کیا مرا ہوا انسان دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟


 

اس دنیا میں آنے والا ہر شخص یقینی طور پر موت کا چہرہ دیکھ کر رہےگا، یہ دنیا کا واحد فلسفہ ہے جس کی بابت تمام تر افراد متفق ہیں، اس بات میں بھی قطعا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انسان عدم آشنا ہونے اور موت کے شکنجے میں کس لیے جانے کے بعد اس دنیا میں دوبارہ نہیں آ سکتا، تاریخ انسانی میں ایسا نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا،سائنسی ترقی کے اس دور میں بھی انسان کو موت کے منھ سے چھڑانے والی مشین ایجاد نہیں ہوئی ہے،وینٹیلیٹر کے ذریعے کچھ دیر تک  سانسوں کو جاری رکھا جا سکتا ہے؛ لیکن وہ موت سے نہیں بچا سکتا۔

سائنس ہر روز کوئی نہ کوئی نئی ایجاد دنیا کو دکھاتی رہتی ہے، یقینا اس نے دنیا کی سمت کو ہی موڑ کر رکھ دیا ہے، اور انسانوں کے لیے کافی آسانیاں فراہم کر دی ہیں۔

انسانوں کو زندہ کرنے کی مشین کی ایجاد کی تیاری

سائنس داں طبقہ اپنی اس کامیابی پر نازاں و فرحاں اور اس قدر مغرور ہے، کہ اب فطرت کو بدلنے کی راہ پر چل پڑا ہے، یعنی وہ ایک ایسی مشین ایجاد کرنے کے در پہ ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ مرے ہوئے انسانوں میں دوبارہ زندگی کی روح پھونک سکتی ہیں۔

در اصل امریکا کے ایک لیب میں مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی  ہیں۔


کیا انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے؟

یہ بات یقینا حیران کن اور ناقابل تسلیم ہے؛ لیکن سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ کوشش کامیاب ہو سکتی ہے، جس طرح سالوں پہلے چاند پر انسانوں کا جانا غیر متصور تھا؛ لیکن آخر کار اس میں کامیابی مل ہی گئی، اسی طرح مستقبل میں انسانوں کو زندہ کرنے کی یہ کوشش بھی کامیاب ہو جائےگی۔

Cryonics technology(کرایونکس ٹیکنالوجی)


اس ٹیکنالوجی کا نام cryonics technology (کرایونکس) ہے، ایریزونا میں بنائی گئی ایک لیب میں کئی لاشوں کو ایسے فریزر میں رکھا گیا ہے جس کی حرارت انتہائی کم ہے؛ تاکہ لاشیں خراب نہ ہوں اور مستقبل میں جب ایسی ٹیکنالوجی تیار ہو جائے تو ان لاشوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
یہ لاشیں امیر لوگوں کی ہیں، جنھوں نے دوبارہ زندہ ہونے کی امید میں اپنی لاشوں کو سائنس دانوں کے حوالے کیا ہے اور اس کے لیے بڑی خطیر رقم بھی معاوضہ کے طور پر ادا کی ہے۔

سائنس دانوں کی اس حماقت کو آپ کس نظریے سے دیکھتے ہیں، کیا ان کی یہ کوشش کامیاب ہوگی یا محض ایک خواب بن کر رہ جائےگی؟
تبصرہ باکس میں ہمیں اپنی آرا سے ضرور مطلع فرمائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے